Posts

Showing posts from January, 2021

اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سو حصے ہیں

Image
  اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سو حصے ہیں بَابٌ فِي أَنَّ ِﷲِ تَعَالَی مِاءَةَ رَحْمَةٍ وَأَنَّهُ ذَخَرَ ِتسْعَةً وَتِسْعِيْنَ مِنْهَا لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ {بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سو حصے ہیں جن میں سے ننانوے حصے اس نے قیامت کے دن کے لئے محفوظ رکھے ہیں} 16/ 1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: جَعَلَ اﷲُ الرَّحْمَةَ مِاءَةَ جُزْءٍ فَأَمْسَکَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِيْنَ جُزْئًا، وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْئًا وَاحِدًا فَمِنْ ذَلِکَ الْجُزْئِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ حَتَّی تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيْبَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. 1: أخرجه البخاری في الصحيح، کتاب: الأدب، باب: جعل اﷲ الرحمة مائة جزئ، 5/ 2236، الرقم: 5654، ومسلم في الصحيح، کتاب: التوبة، باب: في سعة رحمة اﷲ تعالی وأنها سبقت غَضَبَه، 4/ 2108، الرقم: 2752، والدارمي في السنن، 2/ 413، الرقم: 2785، وابن حبان في الصحيح، 14/ 16، الرقم: 6148، والطبراني في المعجم الأوسط، 1/ 297، الرقم: 991، والبيهقي في شعب الإيمان، 7/ 457، الرقم: 1...

ہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے

Image
  بَابٌ فِي اَنَّ رَحْمَةَ اﷲِ تَعَالَی غَالِبَةٌ عَلَی غَضَبِهِ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت   اس کے غضب پر غالب ہے 1 / 1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: لَمَّا خَلَقَ اﷲُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِي کِتَابِهِ وَهُوَ يَکْتُبُ عَلَی نَفْسِهِ وَهُوَ وَضْعٌ عِنْدَهُ عَلَی الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. 1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: التوحيد، باب: قول اﷲ تعالی: ويحذّرکم اﷲ نفسه، 6/ 2694، الرقم: 6969، ومسلم في الصحيح، کتاب:التوبة-، باب: في سعة- رحمة- اﷲ تعالی وأنّها سبقت غضبه، 4/ 2107، الرقم: 2751، والتّرمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول اﷲ ، باب: خلق اﷲ مائة- رحمة-، 5/ 549، الرقم: 3543، وقال أبو عيسی: هذا حديث حسن صحيح، وابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: ما يرجی من رحمة- اﷲ يوم القيامة-، 2/ 1435، الرقم: 4295، والنسائي في السنن الکبری، 4/ 417، الرقم: 7751. ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کت...

نیکیوں کی طرف بڑھ چڑھ کر حصہ لو

Image
  بسم الله الرحمن الرحيم ​ "گناہوں کی بخشش مانگیں، کیوں اور کیسے؟" از حذیفی حفظہ اللہ ​ فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 03-رجب- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان  "گناہوں کی بخشش مانگیں، کیوں اور کیسے؟"  ارشاد فرمایا : جس میں انہوں نے کہا:  نیکیوں کے طریقے اور انداز بہت زیادہ ہیں چنانچہ ان میں سے ایک استغفار بھی ہے جو کہ آدم، حوا، نوح، ابراہیم، موسی، داود علیہم السلام اور سیدنا محمد ﷺ سمیت تمام انبیائے کرام کی عادت مبارکہ ہے، نبی ﷺ سے استغفار کیلیے متعدد الفاظ ثابت ہیں، استغفار نیک لوگوں کی امتیازی صفت ہے، بخشش اور توبہ ایسی نیکیوں میں شامل ہے جن کی قبولیت کا وعدہ اللہ تعالی نے کیا ہوا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ: استغفار سے ہمہ قسم کی رحمت و نعمت کا حصول، گناہوں کی بخشش، جنت کا داخلہ، بارشوں کا نزول، عذاب سے تحفظ، حاجت روائی و مشکل کشائی اور رزق میں فراوانی حاصل ہوتی ہے، مسلمانوں کیلیے بخشش مانگنے کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے، فرشتے بھی مسلمانوں کیلیے بخشش مانگتے ہیں۔ صالح، نوح، ہود اور دیگر انبیائے کرام نے اپنی اقوام کو استغفار کی ...