Posts

تمام انسان خطاکار ہیں اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو خوب توبہ کرنے والے ہیں

Image
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  :  "  كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ توبہ کا مفہوم توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ سرکشی سے باز آ گیا، طریق بندگی کی طرف پلٹ آیا اور خدا کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار غلام کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہو گیا۔ پھر سے بنظر عنایت اس کی طرف مائل ہو گیا۔ (1) جب کہا تاب العبد تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ  "(رجع الى طاعة ربه)" سرکشی چھوڑ کر وہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بن گیا اور اگر تاب کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو تو پھر معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نادم اور شرمسار بندے کی طرف نظر رحمت فرمائی اور اس کا قصور معاف فرما دیا۔ (2) جب توبہ کی نسبت بندہ کی طرف جاتی ہے تو اس کے معنی تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اول: اپنے کئے ہوئے گناہ کو گناہ سمجھنا اور اس پر نادم و شرمندہ ہونا۔ دوسرے: اس گناہ کو بالکل چھوڑ دینا۔ تیسرے: آئندہ کے لئے دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا۔ اگر ان تین چیزوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو ...

Awareness of islam Publications

Awareness of islam Publications HEADLINE “The Caravan of Hadith” Biography of Shaykh Muhammad Ramzan Salfi Biography of Shaykh Mohammad Munir Qamar Biography of Shaykh Muhammad Hussain Zahiri Biography of Mufti Ubaydullah Khan Afeef OUR PUBLICATIONS SOCIAL PAGES CONTACT US Email: snaurooj@hotmail.com Phone:  *966569423865 Fax:   N/A Address:   Hyderabad, Telengana,

حج فرض بغیر ادائیگی موت یہودی یا عیسائی ہوکر مرنے کے برابر

Image
حج فرض بغیر ادائیگی موت یہودی یا عیسائی ہوکر مرنے کے برابر اسلام کے ارکان میں “حج” ایک اہم رکن ہے اور یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں انسان کا بدن بھی خوب استعمال ہوتا ہے اور مال بھی خرچ ہوتا ہے، اور حج نہ صرف بذاتِ خود ایک اعلیٰ عبادت ہے بلکہ بہت سی عبادتوں کا مجموعہ اور بہت سی پاکیزہ صفات کا سرچشمہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ حج کی یہ دل کش عبادت تمام عبادتوں میں ایک منفرد اور نرالی شان رکھتی ہے ۔ قرآنِ کریم نے بہت سے مواقع پر حج کی اہمیت اور فضیلت کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے ، چنانچہ : حج کی فرضیت واہمیت اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً وَّھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ (۹۶) فِیْہِ اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ مَقَامُ اِبْرَاھِیْمَ ج وَمَنْ دَخَلَہُ کَانَ آمِناًط وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً ط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(آل عمران :۹۶؍۹۷)۔ ترجمہ :حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا یقینی طورپر وہ ہے جو مکہ میں واقع ہے ، (اور) بنانے کے وقت ہی ...