تمام انسان خطاکار ہیں اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو خوب توبہ کرنے والے ہیں
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ توبہ کا مفہوم توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ سرکشی سے باز آ گیا، طریق بندگی کی طرف پلٹ آیا اور خدا کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار غلام کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہو گیا۔ پھر سے بنظر عنایت اس کی طرف مائل ہو گیا۔ (1) جب کہا تاب العبد تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ "(رجع الى طاعة ربه)" سرکشی چھوڑ کر وہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بن گیا اور اگر تاب کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو تو پھر معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نادم اور شرمسار بندے کی طرف نظر رحمت فرمائی اور اس کا قصور معاف فرما دیا۔ (2) جب توبہ کی نسبت بندہ کی طرف جاتی ہے تو اس کے معنی تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اول: اپنے کئے ہوئے گناہ کو گناہ سمجھنا اور اس پر نادم و شرمندہ ہونا۔ دوسرے: اس گناہ کو بالکل چھوڑ دینا۔ تیسرے: آئندہ کے لئے دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا۔ اگر ان تین چیزوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو ...